مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شین بیت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیٹے یائر نتن یاہو کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر امریکا سے اسرائیل واپس لایا گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق شین بیت نے بتایا کہ یائر نیتن یاہو کو میامی سے اسرائیل منتقل کرنے کی وجہ ایک ایسا خطرہ تھا جسے ایجنسی نے نمایاں خطرہ قرار دیا ہے۔
شین بیت نے تاہم اس خطرے کی نوعیت یا اس کے پیچھے موجود افراد یا گروہ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
صیہونی داخلی سلامتی کے ادارے کا یہ بیان رواں ہفتے کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ دسمبر 2025 میں فلوریڈا میں قیام کے دوران یائر نیتن یاہو کو قتل کرنے کی ایک سازش تیار کی گئی تھی۔
شین بیت نے اپنے بیان میں کہا کہ یائر نیتن یاہو کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے ایک نمایاں خطرہ موجود تھا، جس کے جائزے کے بعد انہیں اپنی سکیورٹی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر امریکا سے نکال کر اسرائیل واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صیہونی حکومت کے چینل 12 نے بھی رپورٹ دی ہے کہ اس اچانک کارروائی کو انجام دینے کے لیے شین بیت نے اپنے بعض اہلکاروں کو نیویارک سے میامی منتقل کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، یہ اہلکار اس وقت میامی میں موجود تھے جہاں صیہونی حکومت کے صدر اسحاق ہرزوگ بھی موجود تھے۔
آپ کا تبصرہ